بدھ 27 مئی 2026 - 15:50
لبنان کی مقاومت وطن کے تحفظ کے لئے ہے

حوزہ/ سن 2000 میں صہیونی حکومت کی جارحیت کے خلاف لبنان کی تاریخی کامیابی کی یاد میں ایک عظیم الشان تقریب منعقد ہوئی۔ جنوبی لبنان کے عوام کی برسوں پر محیط بہادرانہ مقاومت کے بعد آج مقاومتِ لبنان، لبنانی فوج، عوام اور سرکاری ادارے سب مل کر اس عظیم فتح کی یاد منا رہے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سن 2000 میں صہیونی حکومت کی جارحیت کے خلاف لبنان کی تاریخی کامیابی کی یاد میں ایک عظیم الشان تقریب منعقد ہوئی۔ جنوبی لبنان کے عوام کی برسوں پر محیط بہادرانہ مقاومت کے بعد آج مقاومتِ لبنان، لبنانی فوج، عوام اور سرکاری ادارے سب مل کر اس عظیم فتح کی یاد منا رہے ہیں۔

بعض افراد موجودہ حالات کو دیکھ کر یہ غلط تصور پیش کرتے ہیں کہ اگر لبنان نے سن 2000 میں اسرائیلی جارحیت کو شکست دے دی تھی تو پھر آج دوبارہ جنوبی لبنان جنگ کا میدان کیوں بنا ہوا ہے اور اسرائیلی فوجیں دوبارہ انہی علاقوں میں کیوں داخل ہو رہی ہیں؟ لیکن جب اس تنازعے کی حقیقت اور گہرائی کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہی مقاومت اور لبنانی عوام کی استقامت ہے جس نے ملک کو مسلسل جارحیت اور سیاسی انتشار سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔

صہیونی خونخوار حکومت نے لبنان کی بیشتر سرزمین سے انخلا کے بعد 2006 کی جنگ اور دیگر کئی مواقع پر اس دفاعی توازن کو توڑنے کی کوشش کی جو حزب اللہ نے اس پر مسلط کیا تھا، لیکن مقاومت کے فیصلہ کن اور سخت ردعمل نے ہر مرتبہ دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔

دوسری جانب اسرائیل کے عسکری ڈھانچے اور جنگی حکمت عملی میں تبدیلی کے باعث اس جعلی حکومت نے جنگ کے قواعد بھی بدل دیے ہیں۔ اب دشمن قیدیوں کے تبادلے یا جنگ بندی کے معاہدوں کی زیادہ پروا نہیں کرتا بلکہ وہ کھلی جنگ چھیڑ کر ہر اس طاقت اور وسیلے کو ختم کرنا چاہتا ہے جسے وہ اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، یہاں تک کہ اس کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی اسے نابود کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اسی تناظر میں مقاومتِ لبنان نے بھی ضروری سمجھا ہے کہ وہ صہیونی حکومت کی نئی حکمت عملی کے مطابق اپنی دفاعی پالیسی کو ڈھالے اور ایسے نئے اصول وضع کرے جن کی بنیاد کھلی جارحیت کا مقابلہ کرنے، دشمن کو باز رکھنے اور وطن کے دفاع پر قائم ہو۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha